انجان راستوں کے امتحان

انجان راستوں کے امتحان

نہ خود کو جان سکا کبھی، نہ خود کو پہچان سکا کبھی
خود کو کس کدار مضبوط جانا تھا، ایک ہی لمحے میں بکھر گیا

اب خود کو کس آگ میں ڈالو کہ سب مل جاے
جیسے لوہا پگل کر فولاد بن جاے

تو نے مجھے کس مکام پر پنچہ دیا
نہ اب ایدھر کا رہا نہ ادھر کا رہا

مگنے لگا دعا خدا سے یا تو موت دے یا تو میرا ہو جا
نہ جانے کہا سے کہا پہنچا دیا تو نے

"خاموش مسافر"

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s