معاشر٥ اور اسلام

برِ صغیر میں عموماً چار خوبیاں یکجا ہوں تو راوی چَین ہی چَین لکھتا ہے ۔ ورنہ اپنا آپ منوانے کے لیے تقابل کے بیلنے میں اپنی بانہ ڈال کرمحنت کا رس نکلوانا پڑتا ہے ۔ 

اگر انسان امیر ہو ، انگریزی کے لہجے پر عبور ہو ، گورا چٹا خوبصورت ، اور اونچی ذات والا کہلوائے تو ان چار خوبیوں کے باعث  ہمارے معاشرے میں وہ اڑتا سانپ بن سکتا ہے ۔ اگر دو ایک کوائف کم ہوں تو گھٹتی لڑتا ہے ۔ اور اپنے

آئی  کیو اور محنت کا سہارا لے کر سیلف میڈ آدمی بن جاتا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں ایک مدت سے یہ چار تعویذ کام آتے رہے ہیں۔  جس شخص کے پاس ان کی کمی ہو ہمارے معاشرے میں اس کی عزت بحال نہیں ہو سکتی ۔ فقط متّقی ، پرہیزگار، بے ضرر انسان ہو تو ہمارے معاشرے میں لوگ اسے ایویں کہویں ہی سمجھیں گے ۔

بانو قدسیہ  مردِ ابریشم صفحہ 35

اگر ہم اسلام کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اسلامی معاشرہ تو ہمارے اس پس کہی نہیں ہے- بلکہ ہم لوگ آج بھی اسلام کے نام پر انسان پر ظلم کر رہے ہیں- اسلام الله نے انسان کی فلاح کے لیے بھجا تھا مگر ہم آج اس ہی اسلام کو انسان پر ظلم کرنے کے لیے استمال کر رہے ہیں- میں ایک مثال دے کر اجازت چاہو گا، ہم لوگ آج کل زر پرستی کا شکار ہیں، ہر رویا اور سوچ ماده اور مادے کے حصول سے وابستہ ہے- یہاں تک کہ ہم نے رشتے بھی مادے کی بنیاد پر ہی بناتے ہیں- اور جب معاشرہ اپ کی خواھشات کے مطابق نہیں چلتا تو ہم سارا الزام اسلام کے راستے معاشرے پر ڈال دیتے ہیں مگر کبھی اپنا احتساب نہیں کرتے-

خاموش مسافر ٢٠١٢-١٢-١٩

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s