آج کا میڈیا اور اقبال کی نظر

میڈیا

مجھ میں ہے طاقت دینا کو بدلنے کا
مجھ کو اتی ہے مصوری خداؤں کو بنانے کی

میرے سامنے مذہب کیا، عزت نفس کیا
مجھ کو تو ہے تمناۓ سروری و دینا

اقبال

اک فقر سکھاتا ہے صیاد کو نخچیری
اک فقر سے کھلتے ہیں اسرار جہاں گیری

اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری
اک فقر سے مٹی میں خاصیت اکسیری

اک فقر ہے شبیری، اس فقر میں ہے میری
میراث مسلمانی، سرمایہ شبیری

میڈیا

دینا میں زندگی و رنگ و بو مجھ سے ہے
میں چاہوں تو بدل دو لوگوں کے عقید

دنیا میں ہر انسان کا اک خدا مذہب اور میں
اے اقبال! ہم سے کس زمانے کی بات کرتے ہو

اقبال

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو، وہ فقیری کیا ہے

بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

میڈیا

اسی نگاہ و فقیری کو بدل دینا چاہتا ہوں
تیری فقیری کو کاروبار بنا دینا چاہتا ہوں

تیری سکندری کو بدل دینا چاہتا ہوں
تیرے سکندر کو اپنا غلام بنا لینا چاہتا ہوں

اقبال

کسے نہیں ہے تمناۓ سروری، لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو، وہ فقیری کیا ہے

خوش آگئی ہے جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر مرا کیا ہے، شاعری کیا ہے

خاموش مسافر — ٢٠١٣-٠١-٢٠

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s