خاموش لوگوں کا سفر

کل شام کے پچھلے پھر جب کسی میدار میں تھا- ایک SMS میرے موبائل پر آیا- اس میں کسی کی آزاد شاعری تھی- اس میں بھی کسی ہم کلام ہونے کا موقع ملا- میں شاعر کے بارے میں تو نہیں جانتا مگر کسی سے ہم کلام ہو کر بہت خوشی ملی- آزاد اشعار کچھ اس طرھ ہیں-

بہت خاموش لوگوں سے
بہت الجھا نہیں کرتے
جو دل کو روگ لگ جے
وہ پھر سلجھا نہیں کرتے

چلو تم کہ رہے ہو تو
پھر ہم ایسا نہیں کرتے
مگر تم سے نہ بولیں
یہ ہم ابّ کر نہیں سکتے

ہمارے دل میں تو تم ہو
بھلا تم جس جگہ جاؤ
تسلی دل کو یہ دی ہے
کے تم دھوکہ نہیں کرتے

دلوں کے معاملے ہیں یہاں
تمھی کو یاد کرتے ہیں
تمہیں ہم بھول جائے گے
یہ ہم سوچا نہیں کرتے

بہت خاموش لوگوں سے
بہت الجھا نہیں کرتے
جو دل کو روگ لگ جے
وہ پھر سلجھا نہیں کرتے

کچھ میں نے بھی اس شاعری پر اپنے خیالات کا کچھ اس طرح اظہار کیا-

بہت خاموش لوگوں سے دل لگیا نہیں کرتے
بہت خاموش لوگوں سے دل کی بات چھپایا نہیں کرتے

کیا معلوم سرے بازار کہی کھو جائیں
تلاش میں اس کی خود کو ہم بھول جائیں

جب ہمیں بہت کچھ کہنا اور دینا تھا تمہیں
جدائی کے اس لمحے میں دنیا بھی بھول جائیں

بھول جائیں تم کو یہ گوارہ نہیں ہم کو
پس تم خوش رہو یہی دعا ہے دل کی

بہت خاموش لوگوں سے دل لگیا نہیں کرتے
بہت خاموش لوگوں سے دل کی بات چھپایا نہیں کرتے
(خاموش مسافر – ٢٠١٣-٠٧-٠٧)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s