آخر کب تک

میں آج ایک لڑکی سے بات کر رہا تھا- لڑکی کا لفظ اس لے استمال کیا کیونکہ میں اس کو سمجھدار بالگ خاتوں یعنی لڑکی سمجھتا تھا- مگر اس نے بھی سب کی طرح جذبات کا سہارا لیا اور ایک حقیقت کو دل کی آواز پر ترجھی دے دی- میرے لیے یہ کوئی چمبے کی بات نہ تھی کیونکہ اس جنس کی نفسیات اور حرکات ہی ایسی ہے

اس واقعے میں کچھ خاص تو نہیں ہے مگر میرے دل میں یہ سوال بہت تقلیف دیتا ہے کہ لڑکی یا عورت کی خصلت میں یہ حرکت بطور کلمی شورے کے طور پر مجود ہے- مگر مردوں یا لڑکوں کو کیا ہوگیا ہے- رب نے ان کو طاقت بھی دی ہے اور سمجھ کا دریا بھی مگر وہ اپنی ایک چوٹی سی کمزوری پر آج بھی کابو نہیں پا سکھ اور ہر بار عورت کے ہاتوں رسوائی اور پشیمانی کا سامنہ آج بھی آدم کی ذات کو ہے

میں بہت سارے مذہبی لوگوں سے ملا، فلسفیوں سے ملا اور سائنس کے لوگوں سے ملا تاکہ اس مسلۓ کو حل کر سکوں مگر میں کوئی اکیوشن تیار نہ کر سکا اور کوئی فلسفہ بھی نہ دریافت کر سکا کہ اس مشکل سے مردوں کو آزادی دیلا سکوں- مگر اس ریسرچ کے دوران میں خود اس عزاب یا مرض میں مبتلہ ہو گیا- میں مرض کو خوں کی لبرٹی میں لے گیا کہ اس ایڈز جیسے مرض کی خون کے خلیوں کی بنیاد پر اس کی قسم کا پتہ چل سکے اور کیا مرض اس مکام پر ہے کہ اس کا علاج ہو سکے

لبرٹی میں داخل ہوا اور خون جمعہ کرا دیا- دو دن کے بعد خون کا نتیجہ لیا تو معلوم ہوا کہ خون صاف ہے اور کہی بھی کالے اور پیلے خون کے اثرات نہ تھے- جس سے یہ تو معلوم ہو گیا کہ یہ مرض ایک شفاف جذبے کی شدت کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے- مگر یہ مرض پیدا کیسے ہوا اور اس مرض کا نام کیا ہے- اس کے لیے دل کے کچھ ٹیسٹ کروا لیے تاکہ دل کی ریاست کا حال چک کیا جاۓ- کیونکہ خالص اور پاک حرکات کا مالک دل کی ریاست ہی ہمیشہ رہی ہے

پھر کچھ دن انتظار کیا اور ٹیسٹ رپوٹ وصول کی تو معلوم ہوا کہ میں نہ کابل علاج مرض میں مبتلہ ہو گیا ہوں- اس میں موت یقینی ہے ایک اور دورہ دل کی ریاست میں آیا تو موت یقینی ہے- اس بیماری کی وجہ اور علاج کوئی طریکہ تلاش کیا جاۓ- کچھ دنوں کہ بعد معلوم ہوا کہ اس کے بارے میں قران میں بھی ذکر ہے کہ رب نے عورت کی محبت مرد میں ڈالی گئی ہے- میں حقیقت سے بھگون گا تو موت یقینی ہے- تو ایک دل کسی بزرگ کے پاس اس مرض کی دوا لینے گیا اور وہا جا کر معلوم ہوا کہ اس کا علاج صرف اور صرف ایطراف میں ہے اور محبوب کے سامنے ہار مان لی جاۓ کہ میں اپنی شکست تسلیم کرتا ھوں اور اس کا اطراف کرتا ہوں کہ مجھ کو آپ سے محبت ہے

اور بھر ایسا ہی کیا اور دل کے پاک ریاست میں انکار اور دھیدکارے جانے کی وجہ سے ہر جگہ ٹوٹ پوٹھ کا سامنا کرنا پڑھا- میں یہ تو نہیں جانتا کہ میں اس ریاست کو دبارہ بنا سکوں گا کہ نہیں مگر یہ ضرور جن چکا ہوں کہ محبت کا اطراف نہ ہونے سے کس قسم کے مرض کا سمنا کرنا پڑتا ہے- اور ایک مرد کے لیے اطراف کرنا ایک عورت کے سامنے کتنا مشکل ہوتا ہے- جس کو عورت بہت آسانی سے دھیدکار دینے کی جرات رکھتی ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s