نا معلوم الفاظ

میں یہ تو نہیں جانتا کہ آپ میرے الفاظوں کو کس طرح لیے گے مگر میں آج ایک اور اعتراف کرنا چاہتا ھوں- میں انسان ھوں اور ہر انسان کی طرح میں بھی احساس اور خیلات رکھتا ھوں- دنیا ظالم ہے تو میں کیا کروں میرے اپنے تو یہودیوں سے زیادہ برے ہیں- میں اپنے آپ کو مسلمان کہتا ھوں مگر میں اپنے مسلمان بھایوں کے ہاتوں محفوظ نہیں ھوں- مسلمان کے ہاتھ میں دوسرے مسلمان کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کی یقین دیہانی کرائی گئی ہے- مگر آج کا مسلمان کو مسلمان کہنا چاہئے؟ یہ سوال میرے اپنوں نے پیدا کیا جن سے میرا خون کا رشتہ ہے- میں ابھی اپنے خون کے رشتوں کے ہاتوں اپنی زندگی مفلوج کیے ہے اور کچھ بھی جوابی کاروائی کا اختیار بھی نہیں ہے میرے پاس- تو کیا غیر خونی رشتے والے مسلمان میرے ساتھ کیا کیا کر چکے ہوں گے یا کر سکتے ہوں گے اس کا تصور آپ خود کر لے

میں یہ تو نہیں جانتا کہ آپ کیا تصور کریں گے کیوں کہ اس پوسٹ میں کچھ بھی ایسا نہیں کہ جس سے مجھ پر کیے جانے والے مظالم کا تصور کیا جاسکے

میں آپ کو ایک واقع سنا کر اجازت چاہتا ھوں، یہ واقع میرے سامنے ہوا ہے- ایک دوست نے دوسرے دوست کو اپنے خاندان کے مظالم کے بارے میں بتا رہا تھا- دوسرے دوست نے کہا، یار خاندان میں کسی نہ کسی کو قربانی دینا ہوتی ہے اور تمہاری زندگی کے حالت کچھ ایسے ہی ہیں- اس پر پہلا دوست بولا کہ اپنا حق چھوڑ کر کسی کو دینے کے عمل کا نام قربانی ہے جب کہ میں اپنا حق چھوڑنے کے بعد ان لوگوں کے یہودیوں جیسے رویوں کی بات کر رہا ہوں جس میں مظالم ہی مظالم ہیں اور جواب دینے کی اجازت نہیں ہے- اس پر دوسرا دوست بہت دیر تک ہستا رہا اور میں دونوں کو حیرت بھری نیگہوں سے دیکھتا رہا اور پہلے دوست نے بہت تقلیف دے سوال کر ڈالے جس نے نہ صرف مجھ بہت تقلیف بھی پہنچائی بلکہ نا معلوم سی کیفیت میں دال دیا- اس کے الفاظ کچھ یوں تھے، یار کیا مسلمان ہوں؟ میں مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا ہوں؟ کیا اسلام ایسا مذہب ہے؟ غیر مسلم اور مسلم لوگوں میں کیا فرق ہے؟ کب انسان مسلمان کہلاتا ہے؟ کیا کلمہ پڑھ لینے سےانسان مسلمان کہلانے کے لیے کافی ہے؟ مسلمان کا عملی کردار کیسا ہوتا ہے؟

یہ سب سوال ایسے ہیں جس کا جواب میں نہ تو دیسکتا تھا نہ دینا چاہتا تھا- کیوں کہ میرے پاس رب کی محبوب کی ہی مثال ہے اور کچھ نہیں- اس مثالی سیرت پر اپنی خیالات کا اظہار کرنے کے بعد میں مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا تھا جس کی وجہ سے میں نے خاموش ایخطیار کی اور دل میں اس کے لے دعا کی اور اجازت مانگ لی- میرے لیے اب کسی بھی قسم کے بوجھ کو رکھنے کی سکت نہیں رہی جس کی وجہ سے سب لکھ دیا ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s