علم کا سفر

زمانہ

لوگوں نے کہا مجھ سے تیری تیاری کیسی ہے آج

خاموش مسافر

میں نے کہ دیا سب کو جو ہوگا منظور خدا ہوگا

زمانہ

کبھی ہمیں بھی بتا تیرے اعتماد کا رازکیا ہے؟
کیا تیرے باس پنچہ سالہ امتحان کے سوال ہیں؟

خاموش مسافر

زمانہ اتا نہیں درسگاہوں میں علم کی خاطر
اس ادب کی خاطر جس سے دیدار خدا ہوتا

مجھے نہیں پرواہ زمانے کے کاغذی ٹوکرے کی
پس مجھے تو علم درکار ہے مرشد کا محبت کا

خدا نے خود کوچھپا دیا ادب رسول کے علم میں
پس میری رزہ خدا ہے، خدا ہے، خدا ہے

باقی سب خدا کی تلاش کا پس ایک بحانا ہے
محبت خدا میں ڈوب جا اور پاجا دنیا کے راز


خاموش مسافر – ٢٠١٣ – اکتوبر – ٢٥

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s