تصوف، عمل، علم

تصوف اور دوسرے علموں میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ علم تو پہلے حاصل کیے جاتے ہیں اور پھر ان پر عمل کیا جاتا ہے- اس میں پہلے عمل کیا جاتا ہے اور پھر علم حاصل ہونے لگتا ہے-

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٣٨١

اسلام کا وجود عمل سے وابسطہ ہے- اگر انسان کا عمل نہیں ہے تو وہ مسلمان نہیں اگر کوئی مسلمان نہیں تو اسلام کا وجود نہیں- جب کہ رب کو کسی مذہب کا وجود نہیں درکار مگر انسان کو اپنی روح کی صحت اور اچھی دنیا حاصل کرنے کے لے مذہب کا وجود چاہیے- اور تمام مذہبوں میں اسلام ہی ہے جو انسان کو اعلی ترین اجتمائی زندگی اتا کرتا ہے- عمل سے اپنی روح کی پرورش کریں اور اسلام کے وجود کی گواہی دیں-

اسلام، انسان کو شخصی آزادی اتا کرتا ہے اور ایک مضبوط کردار کا حامل شخص معاشرے کو توفہ تن اتا کرتا ہے- اس شخص کا وجود معاشرے کے لیے خدا کے وجود کی گواہی بن جاتا ہے- اس کی کچھ علامتیں میں بیان کر دیتا ہوں- خدا کا توفہ شخص سادگی کو اچھا سمجھے گا اور معاشرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں مدد کرے گا- اس شخص کا ہر عمل اسلام کے بنیادی قوانین کے عیں مطابق ہو گا اور وہ شخص فکاہ، فرکه اور اسلامی معاشرے ہر قسم کی تقسیم کے خلاف ہو گا-

رب ہم کو اسلام کو سمجھنے اور عمل کرنے اور دوسروں کے لیے خدا کے وجود کی گواہی کی علامت بنے-

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s