فلاح کیا ہے؟

میں بہت عرصے سے فلاح کے بارے میں سوچتا رہا مگر کسی نتیجہ کی طرف نہ پہنچ سکا- مگر ایک دن مجھے بس پر سفر کے دران لامتناہی فلاح کا طریقہ معلوم ہوا- میری نظر ایک درخت پر مجود ایک فاختہ پر پڑھی، وہ رب سے انسانوں کی شکایت لگا رہی تھی کہ انسان جانوروں کا خیال نہیں رکھتے- انسان درخت تو لگاتے ہیں مگر پھل والے درخت نہیں لگاتے کہی کوئی پرندہ اس پھل کو کھا کر انسانوں کے لیے دعا نہ کر دیں-

میں یہ تو نہیں جانتا کہ اس فاختہ کو پتہ تھا کہ نہیں کہ میں اس کو غور سے سن رہا ہوں- مگر میں بہت دکھی ضرور ہو گیا یہ سن کر کیونکہ الله نے تو ہمیں انسان کو اعلی مرتبہ اشرفقل مخلوکات اتا کر رکھا ہے- میں یہ سوچتھ رہا کہ میں کیا کر سکتا ہوں کہ میں اس فاختہ کی شکایت دور کر دو- اچانک میری نظر شاجرکاری کی مہم پر پڑی جس میں درخت لگا کر صدقہ ادا کرنے کا ذکر تھا- تو مجھے سمجھ آیا کہ ہمیں اس شاجرکاری کی مہم پر پھل والے درخت لگانے چاہیے تاکہ انسانوں کہ ساتھ ساتھ حوانات بھی فایدہ حاصل کرسکیں- الله ہم کو فلاحی کام کرنے اور فلاحی کاموں میں حصہ لینے کی توفیق اتا فرمائیں- امین-

خاموش مسافر – ٢٠١٤-٠٢-٢٢

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s