آج کی اب بیتی

میں بہت عرصے سے پاکستان کی پدایش پر کچھ لکھنا چاہتا تھا اور ہمارے خاندان کی قربانیوں پر بھی لکھنا چاہتا تھا- مگر میں آپ سے قربانیوں پر نہیں مگر میں پاکستان کی پدایش پر اپنے بزورگوں کی داستانوں کی جھلکیاں ضرور دینا چاہتا ہوں- آج میرے والد کی پھوپی نے پاکستان کی پدایش پر اپنی پھوپو کے بیٹے کے دونوں بازوں کے کٹنے کی داستان سنائی- اور پھر مسلمانوں پر ہندوؤں اور سکھوں کا مسلمان کی جان، مال اور عزت پر حملوں کی داستان سنائی- جن کی وضاحت میں خاندان کی قربانیں واضہ ہو سکتی ہیں- مگر ان تمام داستانوں میں جسموں کے کٹنے، عزتوں کو لوٹ کر کاٹ دینے کا ذکر اور خوراک کی محتاجی صاف واضہ تھی-

جہاں مسلمانوں نے ایک الگ آزاد اور مسلمان وطن کی خاطر اس قدر قربانیاں دی جس کو الفاظوں میں بیان کرنا ناگزیر ہے- مگر میں مجودہ دور میں ایک آزاد مسلم وطن میں ہوتے ہوے نہ جانے کس سے خوف زدہ ہوں، ایسے کہ میری جان، مال اور عزت محفوظ نہیں- کہی آج بھی ساٹہ سالوں سے زید کے بعد بھی ہندوں اور سکھوں کے ہاتھوں جان، مال اور عزت کے لوٹنے کا خوف ہے؟ اور اس خوف کی وجہ سے ہم آج بھی اپنے گھروں کے دروازوں کا ہر وقت تالا لگا کر رکھتے ہیں-

خاموش مسافر – ٢٠١٤-٠٥-١٨

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s