روحانی بابا عبدال علیم کا تعرف

میں آج اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ قلم نویسی میں بہت طاقت ہے- میں اس طاقت سے اپنے معاشرے میں مجود مسائل کے حل کے لیے حقیقی زندگی کے خدوحال کی تلاش میں تھا- میری تلاش ختم ہوئی اپنے دوست پر جس کا تعلق ایسے خاندان سے ہے جس نے پاکستان کے بنے کے بعد پورے ملک کی الاٹمنٹ کی اور اپنے خاندان کے حصے کو قربان کر دیا کیوں کہ پاکستان کی عوام کی زمیداری اس کے سر پر تھا- اس شخص نے قائد اعظم‎ کے ساتھ مل کر پاکستان بنانے میں اہم کردار ادا کیا- اس شخص کا نام “عبدالکریم” اور پہلے بازآبادکاری کمیشن افسر تھے- عبدالکریم، کون تھا؟ میں آج بھی ان کی تلاش میں ہوں –

روحانی بابا عبدال علیم کے والد عبدالکریم تھے- بابا جی ایک روحانی شخصیت تھے اور اس صدی کے روپوش بزورگ، صاحبے وقار، امانتدار، خودشناس، اعلی علمی مقام کے بزرگ تھے- انہوں نے ایک شادی کی، جن سے پانچ بیٹے اور آٹھ پھول جیسی بیٹیاں الله نے اتا کی- ایک بیٹا “موین” تیرا یا چودہ سال کی عمر میں معدے کی بیماری کی وجہہ سے الله کے پاس چلا گیا- اولاد رب کی امانت ہوتی ہے مگر والدین کے لے دل ایک حصہ ہوتی ہے اور وجود میں گردش کرنے والے خون کا حصہ ہوتی ہے- بابا جی کو اپنے بیٹوں میں سےدو بیٹے بہت پیارے تھے، جن میں سے ایک موین تھا- دوسرے محبوب بیٹے نے والد کے ساتھ کام کرتے ہوے محسوس کیا تھا کہ والد کو اپنے محبوب بیٹے کی جدائی کا دکھ بہت تھا جبکہ ان کی زبان سے دکھ کا اظہار کبھی نہ ہوا تھا- اسی دوکھ کی وجہ سے ان کو طبی ہوگی-

بابا جی کی ایک بیٹی “آمنہ” تیرا یا چودہ سال کی عمر میں پولیوں کے مرض کا شکار ہو گئی- جس کا علاج بہت کرویا گیا اور ڈاکٹروں نے جواب دے دیا- بابا جی اپنی بیگم کو “عزیز جی” کہتے تھے- ایک دن بیگم نے بابا جی نے بہت دکھ کا اظہار کیا اور کہا، آپ اپنے رب سے دعا کیوں نہیں کرتے، آگے آپ نے اتنا پیرا بیٹا کھو دیا- اور اب، آمنہ کی حالت مجھے بھی آپ سے جدا کر دے گی- اس پر بابا جی کا دل دوکھ سے آبدیدہ ہوگیا اور کہا “عزیز جی! میں الله کے حضور دعا کرتا ہوں”- عصر نماز کا وقت ہو چکا تھا اور نماز کے بعد رب کے حضور نوافل پڑھے اور سجدے میں جا کر دعا کی- دس سے پندرہ منٹس کے بعد دعا کی اور منظوری کا اشارہ ہوا اور کہا “عزیز جی! آمنہ کو دیکھوں”- اسی لمحے آمنہ کی آواز اگی کہ “امی جی پیشاب آیا ہے”- اور کیا دیکھا کہ آمنہ اپنے پیروں پر چلنے کی کوشش کرتے ہوے غسل خانے جانا چاہ رہی ہے اور آج وہ بچوں کی ماں ہے-

اس تحریر میں بابا جی کے خاندان کا تعرف اور بابا جی کی روحانی موجذات پیش کر رہا ہوں- انے والی تحریروں میں بابا جی ذات پر، روحانی موجذات پر اور ان کی اولاد کا ذکر ہوگا- بابا جی نے کچھ علم اپنے دوسرے محبوب بیٹے “نصیر” کو دیا، جس کا ذکر بھی ہوگا- بابا جی کے انتقال کے بعد اولاد نے ایک دوسرے حق مارے، بابا جی محبوب بیٹے پر ظلم کیا اور خاندان کا نام خراب کیا- میں اپنے دوست کی اور اس کے خاندان کی زندگی کے تمام حالت تحریر کروں گا تاکہ معاشرے کو اصلاح ہوسکے- اور خاندان کو سمبھلنے کے طریقے بھی پیش کرو گا-

اپنی تحریر کا حوالہ دیتے ہوں اجازت چاہتا ہوں- مسلمان جتنا بھی پارسہ ہو جاۓ، وہ رب کے قریب نہیں ہو سکتا- جب تک، ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کا ضامن نہ ہو-

خاموش مسافر — ٢٠١٦-١٠-٠٢

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s